14 اشعار

اور تو خیر کیا رہ گیا

Aur to khair kya reh gaya

اور تو خیر کیا رہ گیاہاں مگر اک خلا رہ گیا

غم سبھی دل سے رخصت ہوئےدرد بے انتہا رہ گیا

زخم سب مندمل ہو گئےاک دریچہ کھلا رہ گیا

رنگ جانے کہاں اڑ گئےصرف اک داغ سا رہ گیا

آرزوؤں کا مرکز تھا دلحسرتوں میں گھرا رہ گیا

رہ گیا دل میں اک درد سادل میں اک درد سا رہ گیا

زندگی سے تعلق مراٹوٹ کر بھی جڑا رہ گیا

ہم بھی آخر پشیماں ہوئےآپ کو بھی گلا رہ گیا

کوئی مہمان آیا نہیںگھر ہمارا سجا رہ گیا

اس نے پوچھا تھا کیا حال ہےاور میں سوچتا رہ گیا

جام کیا کیا نہ خالی ہوئےدرد سے دل بھرا رہ گیا

کس کو چھوڑا خزاں نے مگرزخم دل کا ہرا رہ گیا

یہ بھی کچھ کم نہیں ہے کہ دلگرد غم سے اٹا رہ گیا

کام اجملؔ بہت تھے ہمیںہاتھ دل پر دھرا رہ گیا

— اجمل سراج