8 اشعار

دن گزرتے جا رہے ہیں

Din guzarte ja rahe hain

دن گزرتے جا رہے ہیں

«دن گزرتے جا رہے ہیں» اختر شمار کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

ہم بھی مرتے جا رہے ہیںبعد تیرے

ہم دکھوں کےآنسوؤں کے باد و باراں میں

نہتے دل کے ساتھبے پناہی راستوں پر

پاؤں دھرتے جا رہے ہیںدن گزرتے جا رہے ہیں

لمحہ لمحہ خوف کے مارے ہوئےرات دن کے وسوسوں میں

کیا خبر کیا بیت جائے اگلے پلاس سفر میں ذہن سوچوں کے تھپیڑوں

سے ہے شلاور ہم خود ہی سے ڈرتے جا رہے ہیں

دن گزرتے جا رہے ہیں

— اختر شمار