تعارف
مبارک عظیم آبادی اردو شاعری کے اُن معتبر اور باوقار ناموں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے کلاسیکی غزل کی روایت کو اپنے منفرد اسلوب کے ساتھ آگے بڑھایا۔ ان کا اصل تعلق بہار کے تاریخی شہر عظیم آباد (موجودہ پٹنہ) سے تھا، اسی نسبت سے وہ مبارک عظیم آبادی کہلائے۔ وہ29 اپریل 1896ءکو ایک علمی و ادبی ماحول میں پیدا ہوئے، جہاں زبان و ادب کی قدروں نے ان کی شخصیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں حاصل کی اور عربی، فارسی اور اردو زبان پر عبور پیدا کیا۔ بچپن ہی سے شعر و سخن سے شغف رکھتے تھے، چنانچہ کلاسیکی شعرا خصوصاً غالب، داغ دہلوی اور امیر مینائی کے رنگ سے اثر قبول کیا، تاہم بعد ازاں اپنی الگ شناخت قائم کی۔مبارک عظیم آبادی بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے، لیکن رباعی، قطعہ اور دیگر اصنافِ سخن میں بھی طبع آزمائی کی۔ ان کی شاعری میں عشق، ہجر، تصوف، اخلاقی اقدار، انسانی محرومی، داخلی کرب اور زندگی کی ناپائیداری جیسے موضوعات نہایت خوبصورتی سے جلوہ گر ہوتے ہیں۔ ان کا اسلوب سادہ، رواں، عام فہم مگر گہری معنویت کا حامل تھا۔ وہ مشکل پسندی اور لفظی تصنع سے گریز کرتے تھے، اسی لیے ان کا کلام خواص کے ساتھ عوام میں بھی مقبول رہا۔ ان کے اشعار میں رومانیت کے ساتھ ساتھ زندگی کے تلخ حقائق اور روحانی بصیرت بھی نمایاں ہے۔ انہیں داغ دہلوی کے رنگ سے مناسبت رکھنے والا شاعر بھی کہا جاتا ہے، جبکہ بہار کی ادبی روایت میں ان کا ذکر شاد عظیم آبادی اور بسمل عظیم آبادی جیسے ممتاز شعرا کے ساتھ کیا جاتا ہے۔مبارک عظیم آبادی نے اپنی شاعری کے ذریعے اردو غزل کی تہذیبی روایت کو زندہ رکھا اور اپنے عہد کے احساسات کو بھی موثر انداز میں بیان کیا۔ اگرچہ انہیں بعض ہم عصروں جیسی وسیع عوامی شہرت نہ مل سکی، لیکن سنجیدہ ادبی حلقوں میں ان کا مقام ہمیشہ مسلم رہا۔ ان کے متعدد اشعار زبان زدِ عام ہوئے، جن میں محبت، وفا، درد اور انسانی احساسات کی بھرپور ترجمانی ملتی ہے۔ ان کا انتقال12 اپریل 1959ء کو ہوا، مگر ان کا ادبی سرمایہ آج بھی انتخابات، رسائل اور جدید ادبی پلیٹ فارمز کے ذریعے محفوظ ہے۔ مبارک عظیم آبادی کو اردو شاعری کی اُس روایت کا معتبر نمائندہ سمجھا جاتا ہے جس میں سادگی، تاثیر، کلاسیکی وقار اور فکری گہرائی ایک ساتھ جمع ہو جائیں۔
منتخب اشعار
اک بادہ شباب کا کیا کیا سرور تھا
جو مرمٹا کسی پہ میں مجرم ضرور تھا
آب و دانہ ترا اے بلبل زار اٹھتا ہے
فصل گل جاتی ہے سامان بہار اٹھتا ہے
کلام
- 01 اک بادہ شباب کا کیا کیا سرور تھا Ek baada shabab ka kya kya suroor tha
- 02 آب و دانہ ترا اے بلبل زار اٹھتا ہے Aab-o-dana tera ae bulbul-e-zaar uthta hai
- 03 ناوک کہیں سناں کہیں تلوار کیا کہیں Nawak kahin sanaan kahin talwar kya kahein
- 04 بدظن ہیں اہل کعبہ مجھ دیر آشنا سے Badzan hain ahl-e-Ka'aba mujh dair-ashna se
- 05 بیگانۂ وفا ترا شیوہ ہی اور ہے Begana-e-wafa tera shewa hi aur hai
- 06 تم وقت پہ کر جاتے ہو پیمان فراموش Tum waqt pe kar jaate ho paiman faramosh