7 اشعار

حصار قریۂ آزار سے نکلتے ہوئے

Hisar qarya-e-aazar se nikalte hue

حصار قریۂ آزار سے نکلتے ہوئے

«حصار قریۂ آزار سے نکلتے ہوئے» اختر شمار کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تو نے آنسو کبھی دیکھا ہے ستارا کرکےاختر شمار» میں 17 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

حصار قریۂ آزار سے نکلتے ہوئےیہ دل ملول تھا آزار سے نکلتے ہوئے

بڑی ہی دیر تلک دھوپ مجھ کو چھو نہ سکیتمہارے سایۂ دیوار سے نکلتے ہوئے

کہ پھر سے تخت کو آنا تھا میرے قدموں میںمیں پر یقین تھا دربار سے نکلتے ہوئے

شعاع نور کے پھوٹے سے جاں لرزتی تھیتمہاری گرمئ رخسار سے نکلتے ہوئے

تمہارے دھیان میں گم ہو گئی تھی مہکی ہواحدود جادۂ گلزار سے نکلتے ہوئے

میں لوٹ آیا تجھے چھوڑ کر مگر آدھاوہیں رہا در و دیوار سے نکلتے ہوئے

فضا میں دیر تلک خوب جگمگاتے شمارؔوہ لفظ شوخئ گفتار سے نکلتے ہوئے

— اختر شمار

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں