6 اشعار

میرے دل سے سلوک ایسا ہی ہونا چاہیے تھا

Mere dil se sulook aisa hi hona chahiye tha

میرے دل سے سلوک ایسا ہی ہونا چاہیے تھااسے بھی توڑنے کو اک کھلونا چاہئیے تھا

کہاں یہ کونے کونے میں لیے پھرتی ہے گردشمجھے تو بیٹھنے کو اک کونا چاہئیے تھا

کہاں ہیں وہ مرے احباب آخر سب کہاں ہیںانہیں مشکل میں میرے ساتھ ہونا چاہئے تھا

میں جان کیوں وارنے میں اس قدر پیچھے رہا تھامحبت میں میرا بھی نام ہونا چاہیئے تھا

یہ ممکن ہے وہ جانے کا ارادہ چھوڑ دیتامجھے اس سے لپٹ کر ایسے رونا چاہیے تھا

وہ آتا یا نہ آتا خواب میں وعدے مطابقمجھے لیکن شمار اس رات سونا چاہیے تھا

— اختر شمار

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں