4 اشعار

یوں کوئی چھوڑ دیا کرتا ھے اپنا کر کے

Yun koi chhod diya karta hai apna kar ke

یوں کوئی چھوڑ دیا کرتا ھے اپنا کر کےتم نے تو مار دیا ھے مجھے تنہا کر کے

اک نظر ڈال کبھی میرے مسیحا مجھ پرتیرا کیا جائے گا بیمار کو اچھا کر کے

اے محبت کے مراحل سے گزرنے والےتو نے آنسو بھی دیکھا ھے ستارا کر کے

میں بہت جلد بھنور میں تجھے یاد آؤں گااتنا خوش باش نہ رہ مجھ سے کنارا کر کے

— اختر شمار

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں