7 اشعار

خواہش جادۂ راحت سے نکلتا کیسے

Khwahish jada-e-rahat se nikalta kaise

خواہش جادۂ راحت سے نکلتا کیسے

«خواہش جادۂ راحت سے نکلتا کیسے» اختر شمار کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تو نے آنسو کبھی دیکھا ہے ستارا کرکےاختر شمار» میں 17 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

خواہش جادۂ راحت سے نکلتا کیسےدل مرا کوئے ملامت سے نکلتا کیسے

سایۂ وہم و گماں چار طرف پھیلا ہےمیں ابھی کرب و اذیت سے نکلتا کیسے

میری رسوائی اگر ساتھ نہ دیتی میرایوں سر بزم میں عزت سے نکلتا کیسے

میری نظریں جو نہ پڑتیں تو وہاں پچھلی شباک ستارا سا تری چھت سے نکلتا کیسے

میں کہ برباد ہوا دید کی خاطر جس کیوہ مرے دیدۂ حیرت سے نکلتا کیسے

اس کے دم ہی سے تو قائم ہے مرا جاہ و جلالوہ مرے دل کی حکومت سے نکلتا کیسے

جاگ بیٹھا ہوں تو دل ڈوبا نہیں ہے اخترؔسویا رہتا تو مصیبت سے نکلتا کیسے

— اختر شمار

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں