نظم 7 اشعار

بھولتی ہوئی یاد

Bhoolti Hui Yaad

تمہیں جب یاد کرتا ہوں تو اک مٹتی ہوئی دنیامری آنکھوں کے آئینے میں پہروں جھلملاتی ہے

کہیں دم گھٹ رہا ہے مسکراتے سرخ پھولوں کاکہیں کلیوں کے سینے میں ہوا رک رک کے آتی ہے

کہیں کجلا گئے ہیں دن کے چمکائے ہوئے ذرےکہیں راتوں کی ہنستی روشنی غم میں نہاتی ہے

وہی دنیا جو کل تک دل کا دامن تھام لیتی تھیاسی دنیا کے ہر ذرے میں اب بے التفاتی ہے

تمنا اپنی ناکامی پہ کانپ اٹھتی ہے یوں جیسےبگولے میں کوئی سوکھی سی پتی تھرتھراتی ہے

گھنے کہرے میں جیسے ڈھنکتے جاتے ہوں ہرے سبزےیوں ہی بیتے دنوں کی شکل دھندلی پڑتی جاتی ہے

جوانی کی اندھیری رات آدھی بھی نہیں گزریمحبت کے دیئے کی لو ابھی سے تھرتھراتی ہے

— علی جواد زیدی