غزل 8 اشعار

شکوے ہم اپنی زباں پر کبھی لائے تو نہیں

Shikway Hum Apni Zaban Par Kabhi Laye To Nahin

شکوے ہم اپنی زباں پر کبھی لائے تو نہیںہاں مگر اشک جب امڈے تھے چھپائے تو نہیں

تیری محفل کے بھی آداب کہ دل ڈرتا ہےمیری آنکھوں نے در اشک لٹائے تو نہیں

چھان لی خاک بیابانوں کی ویرانوں کیپھر بھی انداز جنوں عقل نے پائے تو نہیں

لاکھ پر وحشت و پر ہول سہی شام فراقہم نے گھبرا کے دیے دن سے جلائے تو نہیں

اب تو اس بات پہ بھی صلح سی کر لی ہے کہ وہنہ بلائے نہ سہی دل سے بھلائے تو نہیں

ہجر کی رات یہ ہر ڈوبتے تارے نے کہاہم نہ کہتے تھے نہ آئیں گے وہ آئے تو نہیں

انقلاب آتے ہیں رہتے ہیں جہاں میں لیکنجو بنانے کا نہ ہو اہل مٹائے تو نہیں

اپنی اس شوخی رفتار کا انجام نہ سوچفتنے خود اٹھنے لگے تو نے اٹھائے تو نہیں

— علی جواد زیدی