غزل 13 اشعار

ہے وہی معرکۂ نیکی و شر میرے بعد

Hai wahi ma'rakah-e-neeki-o-shar mere baad

ہے وہی معرکۂ نیکی و شر میرے بعدتھم نہ جائیں کہیں یاران سفر میرے بعد

کم ہیں ایسے جو کریں عرض ہنر میرے بعدآج غم ناک سے ہیں اہل نظر میرے بعد

چند ساعت کے لئے رک بھی گیا رو بھی لیاکارواں پھر بھی ہے سرگرم سفر میرے بعد

جذب تھیں جس میں مرے خون وفا کی چھینٹیںبن گیا سجدہ گہہ خلق وہ در میرے بعد

ہجر کی رات لرزتا ہی رہا پلکوں پرقطرۂ اشک بنا نجم سحر میرے بعد

شاید اے دوست تماشاؤں کے ہنگاموں میںیاد آئے مری محتاط نظر میرے بعد

آج انجان بنو بھول بھی جاؤ لیکنکیا کرو گے مری یاد آئے اگر میرے بعد

کیوں بچھاتے ہو مری راہ میں کانٹے یاروخیر جاری سے بدل جائے گا شر میرے بعد

اب بھی شور قدم راہرواں ہے تو وہیپھر بھی سونی ہے تری راہ گزر میرے بعد

کیا کوئی اور بناتا تھا نشیمن اپناپھر اسی شاخ پہ ہے رقص شرر میرے بعد

اک مری یاد کی مشعل کے سوا کچھ بھی نہ ہورات اس طرح سے بھی ہوگی بسر میرے بعد

یہ تموج یہ تلاطم یہ شہادت یہ شہودختم ہے منزل اول کا سفر میرے بعد

اشک آنکھوں میں بھرے اس نے بھی دیکھا زیدیؔآج محفل کو بہ انداز دگر میرے بعد

— علی جواد زیدی