نظم 32 اشعار

من کی بھول

Man Ki Bhool

تم جب سے پردیس سدھارےدن میں نے رو رو کے گزارے

راتیں کاٹیں گن گن تارےتھا اک وہ بھی زمانہ پیارے

دکھ ساگر میں دل کو ڈبویاچین لٹایا اور سکھ کھویا

آنسو سے چہرے کو دھویاتھا اک وہ بھی زمانہ پیارے

گھر کے اندر رہنے نہ پائیدنیا باہر کھینچ کے لائی

دھن دولت کی آس دلائیتھا اک وہ بھی زمانہ پیارے

بچے رو رو جان گنواتےپاس نہ تھی جو بھی کیا کھاتے

پیسہ بھی تو نہ تھا جو منگاتےتھا اک وہ بھی زمانہ پیارے

شہر میں کی دن بھر مزدوریکرتی ہی کیا تھی مجبوری

بھوک کی ضد کرنا تھی پوریتھا اک وہ بھی زمانہ پیارے

تم تھے کہ بالکل بھول گئے تھےگھر والے آفت میں پھنسے تھے

ظلم ہزاروں جھیل رہے تھےتھا اک وہ بھی زمانہ پیارے

بل کھاتی تھی جوانی میریاٹھلاتی تھی جوانی میری

للچاتی تھی جوانی میریتھا اک وہ بھی زمانہ پیارے

ملک میں اک طوفان بپا تھاجے کاروں کا شور مچا تھا

جیل میں ہندوستان بھرا تھاتھا اک وہ بھی زمانہ پیارے

روتے تھے ماں باپ اور بھائیپر ہمت کی شہہ جو پائی

جیل کی بستی میں نے بسائیتھا اک وہ بھی زمانہ پیارے

جیل میں گھر تک یاد نہیں تھاپھر بھی دل کچھ شاد نہیں تھا

ہندوستاں آزاد نہیں تھاتھا اک وہ بھی زمانہ پیارے

ان باتوں کو بہت دن بیتےکب تک گھٹ گھٹ آنسو پیتے

آخر ہندوستانی جیتےبیتا دکھ کا زمانہ پیارے

اب ہم سب کو آزادی ہےاب تو گھر گھر آبادی ہے

آبادی ہے اور شادی ہےبیتا دکھ کا زمانہ پیارے

اب دھن دولت عام ہوا ہےختم ہے غم آرام ہوا ہے

روس سے بڑھ کر کام ہوا ہےبیتا دکھ کا زمانہ پیارے

ایسے میں تم بھی آ جاؤدل کی بستی آ کے بساؤ

من کے باسی پھول کھلاؤبیتا دکھ کا زمانہ پیارے

لیکن میں یہ کیا کہتی ہوںکس جھوٹی دھن میں رہتی ہوں

سوکھے دریا میں بہتی ہوںبیتا دکھ کا زمانہ پیارے

میں بھولی اے دیس دلارےدنیا کی آنکھوں کے تارے

تم تو گئے خود جنگ میں مارےگاتے گاتے ترانہ پیارے

— علی جواد زیدی