نظم 70 اشعار

ہولی

Holi

پہلے زمانہ اور تھا مے اور تھی دور اور تھاوہ بولیاں ہی اور تھیں وہ ٹولیاں ہی اور تھیں، وہ ہولیاں ہی اور تھیں

لیکن مرے پیر مغاںکل تو نیا انداز تھا

اک دور کا تھا خاتمہ اک دور کا آغاز تھاتیرے وفاداروں نے جب کھیلیں گلابی ہولیاں

نکلے بنا کر ٹولیاںہنستے چلے گاتے چلے

اپنے گلابی رنگ سے دنیا کو نہلاتے چلےمسجد سے منہ موڑے ہوئے

مندر کا سنگ آستاں چھوڑے ہوئےگرجا سے کترائے ہوئے

جیسے کہ ہوں روحانیت کی زندگانی ہی سے گھبرائے ہوئےدور وفاداری کا یہ انجام تھا

فکر گنہ گاری کا تازہ دل ربا پیغام تھاتیرے ہی کوچے میں یہ سب عہد وفا توڑے گئے

رشتے نئے جوڑے گئےاور پھر گنہ گاروں نے کیا رندانہ ہنگامے کیے

اس وقت ان کو یاد تھا بس ایک ترسانا ترامفلسوں ناداروں کو للچانا ترا

جب میکدے کی گود میںتیرے جفا تیری سزا کے نام پر ساغر چلے

سوکھے ہوئے کاسے لبالب بھر چلےسب اپنے لب تر کر چلے

پھر توڑ دیں وہ پیالیاں جن میں سدا پی آئے تھےشیشے چھنا چھن چھن چھنا چھن ٹوٹتے

اور رند لذت لوٹتےٹوٹے ہوئے شیشوں کا اک انبار تھا

شیشوں کے اس انبار میں اک وہ بھی کہنہ جام تھاجس کو سکندر کے قوی ہیکل جواں

بھاگے تھے پورس کی زمیں کو چھوڑ کران میں وہ کاسے بھی تو ہیں جن کو عرب لے آئے تھے

اپنی عبا سے ڈھانپ کرپینے سے پہلے دیکھتے تھے محتسب کو جھانک کر

لیکن کبھیپینے سے باز آتے نہ تھے فاتح جو تھے

ان میں ہیں ایسے جام بھیجن پر پٹھانوں کے قوی ہاتھوں کے دھندلے سے نشاں

کچھ آج بھی موجود ہیںاور ان نشانوں میں ہے خوں مفتوح ہندستان کا

اور ان میں ہیں وہ جام بھی جن کو مغل لے آئے تھےتاتار سے قندھار سے کابل سے رکنا باد سے

مفتوح ہندستان میںجن کو وہ اپنے قصر عالیشاں میں چھلکاتے رہے

تیغوں سے کھنکاتے رہےاور وہ حسیں نازک سبک ہلکی صراحی کس کی ہے

پیرس کے مے خانوں میں یہ مشہور تھیلایا تھا اک تاجر اسے جو بعد میں فاتح بنا

یہ ہلکے شیشوں کے گلاس اور یہ نئے ہلکے سے پیگجن پر لکھا ہے یہ بنے تھے ملک انگلستان میں

اور حال کی صدیوں میں چلتے رہےپینے کو مل جاتی تھی پی لیتے تھے ہم

لیکن تہی دستی کا یہ عالم تھا دل جلتے رہےہم آج گھبرا ہی گئے

اور ان سبھی شیشوں کو چکناچور کر ڈالا وفور جوش میںچھن چھن چھنا چھن توڑ کر

جیسے کہ بربادی کی دیوی چھم چھما چھم ناچتیہولی منانے کے لیے مے خانے میں آ ہی گئے

ٹوٹے ہوئے شیشوں کے اس انبار پرہم نے جلائی آگ یوں

زردشت کا پاکیزہ دل سچائیوں پر ہنس دیاجیسے کہ یہ کہنے لگا

جلنے دو جلنے دو یوں ہی شیشے پگھلنے دو یوں ہیتیرے وفاداروں نے یوں پیر مغاں

شب بھر جلائیں ہولیاںنعرے وہ مستانے لگے اس جوش میں

دل گر پڑے احساس کی آغوش میںاور بول اٹھے تسلیم اے پیر مغاں جاتے ہیں ہم

کل پھر پلٹ کر آئیں گےاس وقت اس مے خانے میں سامان ہوں گے دوسرے

تیرے پرانے ذہن کے معیار توڑے جائیں گےتعمیر نو کی جائے گی

لیکن ہمارے سال خوردہ مہرباں پیر مغاںتجھ کو برا لگتا ہے کیوں

غیروں کا کیا تیرا بھی کیایہ مے کدہ ہم سب کا ہے پنچایتی

تو کیا ہے تیرا خوف کیاکہہ تو دیا پیر مغاں کل پلٹ کر آئیں گے

ہرگز نہ ہم باز آئیں گےکس کو ڈراتا ہے کہ تم اس کی سزا پا جاؤ گے

گاتے تھے ہم گاتے ہیں ہم گائیں گے ہمہرگز نہ باز آئیں گے ہم

جھیلیں گے جیتے جائیں گےپیروں میں ہے زنجیر لیکن ٹوٹ بھی سکتی ہے یہ

ہاں آج ہستی قید ہے کل چھوٹ بھی سکتی ہے یہگانے دے گانے دے ہمیں

دھومیں مچانے دے ہمیںشیشے کو شیشے سے لڑانے دے ہمیں

چھن چھن چھنا چھن کی صدابڑھنے دے بڑھنے دے ابھی

ہم مست و بے خود ناچتے گاتے جلاتے توڑتےہنستے رہیں چلتے رہیں

اور تو بھی خود پیر مغاںہولی کے نغمے سن ذرا اور دیکھ اپنی آنکھ سے

تیرے وفاداروں نے کیا کھیلیں گلابی ہولیاںمنہ مے کدے سے موڑ کر ہولی کی یہ ٹولی چلی

گل زار میںسبزے لچکتی ڈالیاں گنجان، سندر جھاڑیاں

پانی کی سینچی کیاریاں، کانٹوں میں چبھتی پتیاںیہ سب سہی لیکن یہاں وہ شے کہاں

جس کے لیے مشہور ہے انگور نابہاں کیا کہا پیر مغاں

تلووں کے نیچے پھول ہیں ان میں سے دو اک چن بھی لوںخالی ہیں گلدستے ترے

تجھ کو نہیں معلوم ابھیخالی یہ گلدستے ترے خالی ہی رہ جائیں گے اب

پھولوں نے ٹھانی ہے کہ شاخوں ہی پہ مر جائیں گے اباور تیرے کمروں میں وہ نہ آئیں گے اب

منہ بند کلیاں اب کہاںجو اپنی سندر موہنی مسکان کر دیں رائیگاں

اور اپنا گلشن چھوڑ دیں سینے میں خوشبوئیں لیےاور اجنبی ماحول میں

طاق نظر کی کانپتی زینت بنیںکلیوں کے منہ اب کھل چکے منہ بند کلیاں اب کہاں

کلیاں کہاں یہ پھول ہیںخاک چمن کی گود میں آرام جاں یہ پھول ہیں

آتش زباں یہ پھول ہیںاور دیکھ تو یہ پھول کتنے شوخ ہیں

جو ٹوٹ کر شاخوں سے گر جاتے ہیں تیری راہ میںاے دلکش پیر مغاں

یہ چاہتے ہیں روک دیں گل زار میں راہیں تریتیرے لیے چارہ ہی کیا اب رہ گیا

ان بے حیا پھولوں کی آنکھوں کا تو پانی بہہ گیااب ہیں یہ ان کی جرأتیں روکیں گے تیرے راستے

تو بھی خدا کے واسطےان کو کچل دے پیس دے

ورنہ خدا نخواستہیہ روک ہی لیں راستہ

کلیاں نہیں کانٹے ہیں یہکانٹوں سے بھی بد تر ہیں یہ نشتر ہیں یہ خنجر ہیں یہ

گل زار میں تیرے قدم کچھ آج تو آئے نہیںتو نے انہیں سبزوں پہ کی ہے مے کشی

صدیوں سے تیرا دور ہےگل زار پر ہے حق ترا

تو ڈر گیا پیر مغاںکتنا بھیانک خواب تھا

تعبیر کچھ بھی ہو مگرتیرے وفاداروں نے کل

کس آن سے کس بان سے کس شان سےکھیلیں گلابی ہولیاں

— علی جواد زیدی