غزل 11 اشعار

خلائے فکر کا احساس ارض فن سے ملا

Khala-e-fikr ka ehsaas arz-e-fan se mila

خلائے فکر کا احساس ارض فن سے ملابرہنگی میں نیا لطف پیرہن سے ملا

قدم قدم پہ اگے زخم آرزو بھی ہزارہزار رنگ تماشا بھی اس چمن سے ملا

بڑھا کے ہاتھ کہیں الجھنیں ہی چھین نہ لیںوہ جام بھی جو مجھے شام انجمن سے ملا

سحر کو بے کھلی کلیوں میں ڈھونڈھتی ہے کرنجو لطف جلوہ لجائی ہوئی دلہن سے ملا

اسی کے سوگ میں بیٹھا ہوا ہوں مدت سےجو ایک زخم رفیقان ہم وطن سے ملا

غرور خوش نظری نازش عقیدہ و رنگہزار روگ اسی زعم ما و من سے ملا

ہجوم یاس میں تہذیب نفس کا آہنگتری ہی نرم خرامی کے بانکپن سے ملا

وہ حوصلہ جو نئی راہ کی تلاش میں ہےگلی گلی میں بھٹکتی ہوئی کرن سے ملا

ہر ایک حال میں جینے کا جگمگانے کا شوقاندھیری شب میں ستاروں کی انجمن سے ملا

اشارہ فکر کو مہمیز حشر پرور کاخطا معاف ہو تیرے ہی بانکپن سے ملا

اب اس شعور کو محصور ذات کیسے کروںشعور ذات کہ زیدیؔ بڑے جتن سے ملا

— علی جواد زیدی