غزل 6 اشعار

گو وسیع صحرا میں اک حقیر ذرہ ہوں

Go wasee sahra mein ek haqeer zarrah hoon

گو وسیع صحرا میں اک حقیر ذرہ ہوںرہروی میں صرصر ہوں رقص میں بگولا ہوں

ہر سمدر منتھن سے زہر ہی نکلتا ہےمیں یہ زہر جیون کا ہنس کے پی بھی سکتا ہوں

یہ بھری پری دھرتی اک اننت میلا ہےاور سارے میلے میں جیسے میں اکیلا ہوں

یوں تو پھول پھبتا ہے ہر حسین جوڑے پرجس نے چن لیا مجھ کو میں اسی کا بیلا ہوں

کل ہر ایک جلوے میں لاکھ جلوے پیدا تھےمیں کہ تھا تماشائی آج خود تماشا ہوں

زندگی کے رستوں پر زخم خوردہ دیوانہکہہ رہا تھا زیدیؔ سے میں بھی آپ جیسا ہوں

— علی جواد زیدی