13 اشعار

چمک اٹھا جو ستارہ ترے مقدر کا

Chamak uTtha jo sitaara tere muqaddar ka

چمک اٹھا جو ستارہ ترے مقدر کا

«چمک اٹھا جو ستارہ ترے مقدر کا» علامہ اقبال کا کلام ہے، جسے اسد باجوہ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں (علامہ اقبال)» میں 3 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 22 سیکنڈ ہے۔

چمک اٹھا جو ستارہ ترے مقدر کاحبش سے تجھ کو اٹھا کر حجاز میں لایا

ہوئی اسی سے ترے غم کدے کی آبادیتری غلامی کے صدقے ہزار آزادی

وہ آستاں نہ چھٹا تجھ سے ایک دم کے لیےکسی کے شوق میں تو نے مزے ستم کے لیے

جفا جو عشق میں ہوتی ہے وہ جفا ہی نہیںستم نہ ہو تو محبت میں کچھ مزا ہی نہیں

نظر تھی صورت سلماں ادا شناس تریشراب دید سے بڑھتی تھی اور پیاس تری

تجھے نظارے کا مثل کلیم سودا تھااویس طاقت دیدار کو ترستا تھا

مدینہ تیری نگاہوں کا نور تھا گویاترے لیے تو یہ صحرا ہی طور تھا گویا

تری نظر کو رہی دید میں بھی حسرت دیدخنک دلے کہ تپید و دمے نیا سائید

گری وہ برق تری جان ناشکیبا پرکہ خندہ زن تری ظلمت تھی دست موسی پر

تپش ز شعلہ گر فتند و بر دل تو زدندچہ برق جلوہ بخاشاک حاصل تو زدند

ادائے دید سراپا نیاز تھی تیریکسی کو دیکھتے رہنا نماز تھی تیری

اذاں ازل سے ترے عشق کا ترانہ بنینماز اس کے نظارے کا اک بہانہ بنی

خوشا وہ وقت کہ یثرب مقام تھا اس کاخوشا وہ دور کہ دیدار عام تھا اس کا

— علامہ اقبال

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں