7 اشعار

کیا زمانے سے نرالا ہے مسولینی کا جُرم!

Kya zamane se nirala hai Mussolini ka jurm!

کیا زمانے سے نرالا ہے مسولینی کا جُرم!

«کیا زمانے سے نرالا ہے مسولینی کا جُرم!» علامہ اقبال کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں» میں 30 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

کیا زمانے سے نرالا ہے مسولینی کا جُرم!بے محل بِگڑا ہے معصومانِ یورپ کا مزاج

مَیں پھٹکتا ہُوں تو چھَلنی کو بُرا لگتا ہے کیوںہیں سبھی تہذیب کے اوزار! تُو چھَلنی، مَیں چھاج

میرے سودائے مُلوکیّت کو ٹھُکراتے ہو تمتم نے کیا توڑے نہیں کمزور قوموں کے زُجاج؟

یہ عجائب شعبدے کس کی مُلوکیّت کے ہیںراجدھانی ہے، مگر باقی نہ راجا ہے نہ راج

آلِ سِیزر چوبِ نَے کی آبیاری میں رہےاور تم دُنیا کے بنجر بھی نہ چھوڑو بے خراج!

تم نے لُوٹے بے نوا صحرا نشینوں کے خیامتم نے لُوٹی کِشتِ دہقاں، تم نے لُوٹے تخت و تاج

پردۂ تہذیب میں غارت گری، آدم کُشیکل رَوا رکھّی تھی تم نے، مَیں رَوا رکھتا ہوں آج!

— علامہ اقبال

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں