11 اشعار

ہو تیرے بیاباں کی ہوا تجھ کو گوارا

Ho tere biyabaan ki hawa tujh ko gawara

ہو تیرے بیاباں کی ہوا تجھ کو گوارا

«ہو تیرے بیاباں کی ہوا تجھ کو گوارا» علامہ اقبال کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں» میں 30 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 23 سیکنڈ ہے۔

ہو تیرے بیاباں کی ہوا تجھ کو گوارااس دشت سے بہتر ہے نہ دِلّی نہ بخارا

جس سمت میں چاہے صفَتِ سیلِ رواں چلوادی یہ ہماری ہے، وہ صحرا بھی ہمارا

غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دَو میںپہناتی ہے درویش کو تاجِ سرِ دارا

حاصل کسی کامل سے یہ پوشیدہ ہُنَر کرکہتے ہیں کہ شیشے کو بنا سکتے ہیں خارا

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیرہر فرد ہے ملّت کے مقدّر کا ستارا

محروم رہا دولتِ دریا سے وہ غوّاصکرتا نہیں جو صُحبتِ ساحل سے کنارا

دِیں ہاتھ سے دے کر اگر آزاد ہو ملّتہے ایسی تجارت میں مسلماں کا خسارا

دنیا کو ہے پھر معرکۂ رُوح و بدن پیشتہذیب نے پھر اپنے درِندوں کو اُبھارا

اللہ کو پامردیِ مومن پہ بھروسااِبلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا

تقدیرِ اُمَم کیا ہے، کوئی کہہ نہیں سکتامومن کی فراست ہو تو کافی ہے اشارا

اخلاصِ عمل مانگ نیا گانِ کُہن سے’شاہاں چہ عجب گر بنوازند گدا را!‘

— علامہ اقبال

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں