32 اشعار

فلسفۂ غم

Falsafa-e-Gham

فلسفۂ غم

«فلسفۂ غم» علامہ اقبال کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں (علامہ اقبال)» میں 3 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 4 منٹ 22 سیکنڈ ہے۔

گو سراپا کیف عشرت ہے شراب زندگیاشک بھی رکھتا ہے دامن میں سحاب زندگی

موج غم پر رقص کرتا ہے حباب زندگیہے 'الم' کا سورہ بھی جزو کتاب زندگی

ایک بھی پتی اگر کم ہو تو وہ گل ہی نہیںجو خزاں نادیدہ ہو بلبل، وہ بلبل ہی نہیں

آرزو کے خون سے رنگیں ہے دل کی داستاںنغمہ انسانیت کامل نہیں غیر از فغاں

دیدہ بینا میں داغ غم چراغ سینہ ہےروح کو سامان زینت آہ کا آئینہ ہے

حادثات غم سے ہے انساں کی فطرت کو کمالغازہ ہے آئینہء دل کے لیے گرد ملال

غم جوانی کو جگا دیتا ہے لطف خواب سےساز یہ بیدار ہوتا ہے اسی مضراب سے

طائر دل کے لیے غم شہپر پرواز ہےراز ہے انساں کا دل غم انکشاف راز ہے

غم نہیں غم، روح کا اک نغمہء خاموش ہےجو سرود بربط ہستی سے ہم آغوش ہے

شام جس کی آشنائے نالہء 'یا رب' نہیںجلوہ پیرا جس کی شب میں اشک کے کوکب نہیں

جس کا جام دل شکست غم سے ہے ناآشناجو سدا مست شراب عیش و عشرت ہی رہا

ہاتھ جس گلچیں کا ہے محفوظ نوک خار سےعشق جس کا بے خبر ہے ہجر کے آزار سے

کلفت غم گرچہ اس کے روز و شب سے دور ہےزندگی کا راز اس کی آنکھ سے مستور ہے

اے کہ نظم دہر کا ادراک ہے حاصل تجھےکیوں نہ آساں ہو غم و اندوہ کی منزل تجھے

ہے ابد کے نسخہ دیرینہ کی تمہید عشقعقل انسانی ہے فانی، زندہء جاوید عشق

عشق کے خورشید سے شام اجل شرمندہ ہےعشق سوز زندگی ہے ، تا ابد پائندہ ہے

رخصت محبوب کا مقصد فنا ہوتا اگرجوش الفت بھی دل عاشق سے کر جاتا سفر

عشق کچھ محبوب کے مرنے سے مر جاتا نہیںروح میں غم بن کے رہتا ہے ، مگر جاتا نہیں

ہے بقائے عشق سے پیدا بقا محبوب کیزندگانی ہے عدم ناآشنا محبوب کی

آتی ہے ندی جبین کوہ سے گاتی ہوئیآسماں کے طائروں کو نغمہ سکھلاتی ہوئی

آئنہ روشن ہے اس کا صورت رخسار حورگر کے وادی کی چٹانوں پر یہ ہو جاتا ہے چور

نہر جو تھی ، اس کے گوہر پیارے پیارے بن گئےیعنی اس افتاد سے پانی کے تارے بن گئے

جوئے سیماب رواں پھٹ کر پریشاں ہو گئیمضطرب بوندوں کی اک دنیا نمایاں ہو گئی

ہجر، ان قطروں کو لیکن وصل کی تعلیم ہےدو قدم پر پھر وہی جو مثل تار سیم ہے

ایک اصلیت میں ہے نہر روان زندگیگر کے رفعت سے ہجوم نوع انساں بن گئی

پستی عالم میں ملنے کو جدا ہوتے ہیں ہمعارضی فرقت کو دائم جان کر روتے ہیں ہم

مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیںیہ حقیقت میں کبھی ہم سے جدا ہوتے نہیں

عقل جس دم دہر کی آفات میں محصور ہویا جوانی کی اندھیری رات میں مستور ہو

دامن دل بن گیا ہو رزم گاہ خیر و شرراہ کی ظلمت سے ہو مشکل سوئے منزل سفر

خضر ہمت ہو گیا ہو آرزو سے گوشہ گیرفکر جب عاجز ہو اور خاموش آواز ضمیر

وادی ہستی میں کوئی ہم سفر تک بھی نہ ہوجادہ دکھلانے کو جگنو کا شرر تک بھی نہ ہو

مرنے والوں کی جبیں روشن ہے اس ظلمات میںجس طرح تارے چمکتے ہیں اندھیری رات میں

— علامہ اقبال

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں