7 اشعار

کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں

Kabhi ae haqeeqat-e-muntazir nazar aa libaas-e-majaaz mein

کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں

«کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں» علامہ اقبال کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی» میں 25 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 15 سیکنڈ ہے۔

کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میںکہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبین نیاز میں

طرب آشنائے خروش ہو تو نوا ہے محرم گوش ہووہ سرود کیا کہ چھپا ہوا ہو سکوت پردۂ ساز میں

تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے ترا آئنہ ہے وہ آئنہکہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہ آئنہ ساز میں

دم طوف کرمک شمع نے یہ کہا کہ وہ اثر کہننہ تری حکایت سوز میں نہ مری حدیث گداز میں

نہ کہیں جہاں میں اماں ملی جو اماں ملی تو کہاں ملیمرے جرم خانہ خراب کو ترے عفو بندہ نواز میں

نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں نہ وہ حسن میں رہیں شوخیاںنہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی نہ وہ خم ہے زلف ایاز میں

جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صداترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں

— علامہ اقبال

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں