7 اشعار

کوئی محرم نہیں ملتا جہاں میں

koi mehram nahin milta jahan mein

کوئی محرم نہیں ملتا جہاں میں

«کوئی محرم نہیں ملتا جہاں میں» الطاف حسین حالی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

کوئی محرم نہیں ملتا جہاں میںمجھے کہنا ہے کچھ اپنی زباں میں

قفس میں جی نہیں لگتا کسی طرحلگا دو آگ کوئی آشیاں میں

کوئی دن بوالہوس بھی شاد ہو لیںدھرا کیا ہے اشارات نہاں میں

کہیں انجام آ پہنچا وفا کاگھلا جاتا ہوں اب کے امتحاں میں

نیا ہے لیجئے جب نام اس کابہت وسعت ہے میری داستاں میں

دل پر درد سے کچھ کام لوں گااگر فرصت ملی مجھ کو جہاں میں

بہت جی خوش ہوا حالیؔ سے مل کرابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں

— الطاف حسین حالی