14 اشعار

رنج اور رنج بھی تنہائی کا

ranj aur ranj bhi tanhai ka

رنج اور رنج بھی تنہائی کا

«رنج اور رنج بھی تنہائی کا» الطاف حسین حالی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 35 سیکنڈ ہے۔

رنج اور رنج بھی تنہائی کاوقت پہنچا مری رسوائی کا

عمر شاید نہ کرے آج وفاکاٹنا ہے شب تنہائی کا

تم نے کیوں وصل میں پہلو بدلاکس کو دعویٰ ہے شکیبائی کا

ایک دن راہ پہ جا پہنچے ہمشوق تھا بادیہ پیمائی کا

اس سے نادان ہی بن کر ملیےکچھ اجارہ نہیں دانائی کا

سات پردوں میں نہیں ٹھہرتی آنکھحوصلہ کیا ہے تماشائی کا

درمیاں پائے نظر ہے جب تکہم کو دعویٰ نہیں بینائی کا

کچھ تو ہے قدر تماشائی کیہے جو یہ شوق خود آرائی کا

اس کو چھوڑا تو ہے لیکن اے دلمجھ کو ڈر ہے تری خود رائی کا

بزم دشمن میں نہ جی سے اتراپوچھنا کیا تری زیبائی کا

یہی انجام تھا اے فصل خزاںگل و بلبل کی شناسائی کا

مدد اے جذبۂ توفیق کہ یاںہو چکا کام توانائی کا

محتسب عذر بہت ہیں لیکناذن ہم کو نہیں گویائی کا

ہوں گے حالیؔ سے بہت آوارہگھر ابھی دور ہے رسوائی کا

— الطاف حسین حالی