7 اشعار

وصل کا اس کے دل زار تمنائی ہے

wasl ka us ke dil-e-zaar tamannai hai

وصل کا اس کے دل زار تمنائی ہے

«وصل کا اس کے دل زار تمنائی ہے» الطاف حسین حالی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

وصل کا اس کے دل زار تمنائی ہےنہ ملاقات ہے جس سے نہ شناسائی ہے

قطع امید نے دل کر دیے یکسو صد شکرشکل مدت میں یہ اللہ نے دکھلائی ہے

قوت دست خدائی ہے شکیبائی میںوقت جب آ کے پڑا ہے یہی کام آئی ہے

ڈر نہیں غیر کا جو کچھ ہے سو اپنا ڈر ہےہم نے جب کھائی ہے اپنے ہی سے زک کھائی ہے

نشہ میں چور نہ ہوں جھانجھ میں مخمور نہ ہوںپند یہ پیر خرابات نے فرمائی ہے

نظر آتی نہیں اب دل میں تمنا کوئیبعد مدت کے تمنا مری بر آئی ہے

بات سچی کہی اور انگلیاں اٹھیں سب کیسچ میں حالیؔ کوئی رسوائی سی رسوائی ہے

— الطاف حسین حالی