7 اشعار

میں تو میں غیر کو مرنے سے اب انکار نہیں

main to main ghair ko marne se ab inkaar nahin

میں تو میں غیر کو مرنے سے اب انکار نہیں

«میں تو میں غیر کو مرنے سے اب انکار نہیں» الطاف حسین حالی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

میں تو میں غیر کو مرنے سے اب انکار نہیںاک قیامت ہے ترے ہاتھ میں تلوار نہیں

کچھ پتا منزل مقصود کا پایا ہم نےجب یہ جانا کہ ہمیں طاقت رفتار نہیں

چشم بد دور بہت پھرتے ہیں اغیار کے ساتھغیرت عشق سے اب تک وہ خبردار نہیں

ہو چکا ناز اٹھانے میں ہے گو کام تمامللہ الحمد کہ باہم کوئی تکرار نہیں

مدتوں رشک نے اغیار سے ملنے نہ دیادل نے آخر یہ دیا حکم کہ کچھ عار نہیں

اصل مقصود کا ہر چیز میں ملتا ہے پتاورنہ ہم اور کسی شے کے طلب گار نہیں

بات جو دل میں چھپاتے نہیں بنتی حالیؔسخت مشکل ہے کہ وہ قابل اظہار نہیں

— الطاف حسین حالی