10 اشعار

ہم نے گریہ کیا

Hum ne girya kiya

ہم نے گریہ کیااس جگہ جس جگہ جشن درکار تھا

ہم نے گریہ کیااس جگہ

جس جگہ ایڑیاں ہم رگڑتےتو زمزم ابلنے کو تیار تھا

ہم نے گریہ کیاسنگ حسرت پہ سر کو پٹکتے ہوئے ایک احساس پر

ناتواں پیاس پرپیاس جو اس گھڑی مر گئی

اس نے جبمیرے سوکھے لبوں پر

سمندر کی وسعت لئےاپنے لب رکھ دئے

دیر تک اپنے سب زخم ہمجسم کی خاک میں ساتھ بوتے رہے

یوں ہی لپٹے ہوئےجاگتی نیند سوتے رہے

ایک دوجے کی آنکھوں سے روتے رہےہم نے گریہ کیا

— امیر امام