16 اشعار

تبرک

Tabarruk

یہ میری زندگی بھی ایک مجلس ہےمحرم والی مجلس

یہ جاری ہےنہ جانے کب تلک جاری رہے گی

ابھی تک تو بڑی موٹی بیاضیں ہاتھ میں تھامے ہوئے دو چار نوحہ خوان باقی ہیںاک تو پہلے ہی بہت تاخیر اس میں ہو چکی تھی

وہ کافی دیر سے آئے تھےجن کو سوز پڑھنا تھا

سب اپنی اپنی باتیں کر رہے تھےمیں بھی اک کونے میں بیٹھا دیر تک سنتا رہا سب کی

وہ آئے سوز خوانی کیاور اس کے بعد مولانا نے بھی تقریر فرمائی

فضائل آئے تو میں نے بھی سب کے ساتھ میں نعرے لگائےمصائب آئے تو رویا

اور اب حلقے میں ماتم کر رہا ہوں میںشبیہیں قمقمے طغرے

عزا خانے میں چھائی ہر طرف لوبان کی خوشبومقدس ہیں بہت اچھے ہیں

لیکن کیوں کہ ماتم کر رہا ہوں میںتو میرے ہاتھ تھکتے جا رہے ہیں

میں دبلا پتلا لڑکا ہوںچلو میرا عقیدہ ہی بہت کمزور ہو گا

مگر میں چاہتا ہوںذرا سی دیر کو حلقے سے ہٹ کر ایک سگریٹ پھونک ہی آؤں

پر ایسا کر نہیں سکتا میںکیوں کہ بانیٔ مجلس عزا خانے کے دروازے پہ بیٹھا ہے

اور تبرک تو اسی کو بانٹنا ہےتو ماتم کر رہا ہوں میں

تو میں ماتم کروں گاچاہے کچھ ہو

کیوں کہ اب سب کے برابر ہی تبرک چاہیئے مجھ کو

— امیر امام