10 اشعار

مرثیہ

Marsiya

وہ اک پیڑ جو اس علاقے کی سب سے بڑی شخصیت تھااپنے چاروں طرف کے مکانوں کو جس نے

تھام کر انگلی چلنا سکھایااسے سب خبر تھی

کہ کس گھر میں کس کی لڑائی ہوئی ہےمگر چپ رہا

اور ہر گھر کے ہر راز کو اس نے سب سے چھپایاکچی دیواریں اکثر

کوٹھری کی شکایت جو کرتی تھیں اس سےتو ان کو بٹھا کر

پیار سے مسکرا کرذرا ڈانٹتا تھا

صدر دروازوں کاسارے دالانوں سے فاصلہ تھا مگر

چند جھونکوں سے وہ فاصلہ پاٹتا تھاوہی پیڑ اب سر جھکائے کھڑا ہے

کچی دیواروں کے چھوٹے چھوٹے مکاںپکی اینٹوں کے دو منزلے ہو گئے ہیں

پیڑ خاموش ہےوہ مکاں اس کے حصے کی دھوپوں کو گھیرے کھڑے ہیں

— امیر امام