15 اشعار

سچ حسین ہے

Sach haseen hai

کب سے جانے کب سےشاید صدیوں سے

انسان یہی کہتا آیا ہےدل کو ہٹا کر

بہت سے دھوکے اس نے اپنی عقل سے کھائےاک دھوکہ یہ بھی کھایا ہے

وہ کہتا ہے سچ بد صورتآنکھوں میں خوں

دانت بڑے اور لال زباں باہر کو نکلیاک ایسی پتھر کی مورت

سچ بد صورتلیکن یارو غور سے دیکھو

صبح کا ہونا بھی اک سچ ہےآسمان میں رات کی دیوی کا روزانہ

تارے بونا بھی اک سچ ہےچاندنی رات کی چاندی بھی اک سچائی ہے

سورج کی کرنوں کا سونا بھی اک سچ ہےیہاں بھی دیکھو وہاں بھی دیکھو

سچ ہے حسن جہاں بھی دیکھوحسن ہے سچ کا کونا کونا

حسن کی ضد بد صورت ہوناتو پھر سچ بد صورت کیسے

یعنی کچھ جھوٹوں نے مل کرجھوٹ کو اب تک اتنا بولا

آج ہمیں وہ سچ لگتا ہےجو کڑوا اور بد صورت ہے

آؤ اس میزان میں رکھ کرسچ اور جھوٹ کی ہیئت تولیں

ہو سکتا ہے جھوٹ لگے دنیا کو لیکنہمت کر کے یہ سچ بولیں

— امیر امام