10 اشعار

جو اتر کے زینۂِ شام سے تیری چشم ِخوش میں سما گئے

Jo utar ke zeenah-e-shaam se teri chashm-e-khush mein sama gaye

جو اتر کے زینۂِ شام سے تیری چشم ِخوش میں سما گئے

«جو اتر کے زینۂِ شام سے تیری چشم ِخوش میں سما گئے» امجد اسلام امجد کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی» میں 25 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 48 سیکنڈ ہے۔

جو اتر کے زینۂِ شام سے تیری چشم ِخوش میں سما گئےوہی جلتے بجھتے سے مہر و ماہ میرے بام و در کو سجا گئے

یہ عجیب کھیل ہے عشق کا میں نے آپ دیکھا یہ معجزہوہ جو لفظ میرے گماں میں تھے وہ تیری زبان پر آگئے

وہ جو گیت تم نے سنا نہیں میری عمر بھر کا ریاض تھامیرے درد کی تھی داستاں جسے تم ہنسی میں اڑا گئے

وہ چراغ ِجاں کبھی جس کی لو نہ کسی ہوا سے نگوں ہوئیتیری بیوفائی کے وسوسے اسے چپکے چپکے بجھا گئے

وہ تھا چاند شام ِوصال کا کہ تھا روپ تیرے جمال کامیری روح سے میری آنکھ تک کسی روشنی میں نہا گئے

یہ جو بندگان ِنیاز ہے یہ تمام ہیں وہ لشکریجنہیں زندگی نے اماں نہ دی تو تیرے حضور میں آ گئے

تیری بے رخی کے دیار میں میں ہوا کے ساتھ ہَوا ہواتیرے آئینے کی تلاش میں میرے خواب چہرہ گنوا گئے

تیرے وسوسوں کے فشار میں تیرا شرار ِرنگ اجڑ گیامیری خواہشوں کے غبار میں میرے ماہ و سال ِوفا گئے

وہ عجیب پھول سے لفظ تھے تیرے ہونٹ جن سے مہک اٹھےمیرے دشتِ خواب میں دور تک کوئی باغ جیسے لگا گئے

میری عمر سے نہ سمٹ سکے میرے دل میں اتنے سوال تھےتیرے پاس جتنے جواب تھے تیری اک نگاہ میں آ گئے

— امجد اسلام امجد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں