7 اشعار

کوئی خواب دشتِ فراق میں سر ِشام چہرہ کشا ہوا

Koi khwab dasht-e-firaq mein sar-e-sham chehra kusha hua

کوئی خواب دشتِ فراق میں سر ِشام چہرہ کشا ہوا

«کوئی خواب دشتِ فراق میں سر ِشام چہرہ کشا ہوا» امجد اسلام امجد کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی» میں 25 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

کوئی خواب دشتِ فراق میں سر ِشام چہرہ کشا ہوامری چشم تر میں رکا نہیں کہ تھا رتجگوں کا ڈسا ہوا

مرے دل کو رکھتا ہے شادماں، مرے ہونٹ رکھتا ہے گل فشاںوہی ایک لفظ جو آپ نے، مرے کان میں ہے کہا ہوا

ہے نگاہ میں مری آج تک، وہ نگاہ کوئی جھکی ہوئیوہ جو دھیان تھا کسی دھیان میں، وہیں آج بھی ہے لگا ہوا

مرے رتجگوں کے فشار میں، مری خواہشوں کے غبار میںوہی ایک وعدہ گلاب سا، سر ِنخل جاں ہے کھلا ہوا

تری چشم ِخوش کی پناہ میں، کسی خواب زار کی راہ میںمرے غم کا چاند ٹھہر گیا، کہ تھا رات بھر کا تھکا ہوا

کسی دل کشا سی پکار سے، اسی ایک بادِبہار سےکہیں برگ برگ نمو ملی ،کہیں زخم زخم ہرا ہوا

ترے شہرِعدل سے آج کیا، سبھی درد مند چلے گئے؟نہیں کاغذی کوئی پیرہن، نہیں ہاتھ کوئی اٹھا ہوا

— امجد اسلام امجد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں