10 اشعار

تیرے ارد گررد وہ شور تھا ، مری بات بیچ میں رہ گئی

Tere Ird Gird Woh Shor Tha, Meri Baat Beech Mein Reh Gayi

تیرے ارد گررد وہ شور تھا ، مری بات بیچ میں رہ گئی

«تیرے ارد گررد وہ شور تھا ، مری بات بیچ میں رہ گئی» امجد اسلام امجد کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر ووصال زہرانگاہ» میں 23 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 38 سیکنڈ ہے۔

تیرے ارد گررد وہ شور تھا ، مری بات بیچ میں رہ گئینہ میں کہہ سکا نہ تو سن سکا ، مری بات بیچ میں رہ گئی

میرے دل کو درد سے بھر گیا ، مجھے بے یقین سا کرگیاتیرا بات بات پہ ٹوکنا ، مری بات بیچ میں رہ گئی

ترے شہر میں مرے ہم سفر، وہ دکھوں کا جم غفیر تھامجھے راستہ نہیں مل سکا ، مری بات بیچ میں رہ گئی

وہ جو خواب تھے مرے سامنے ، جو سراب تھے مرے سامنےمیں انہی میں ایسے الجھ گیا ، مری بات بیچ میں رہ گئی

عجب ایک چپ سی لگی مجھے ، اسی ایک پل کے حصار میںہوا جس گھڑی ترا سامنا ، مری بات بیچ میں رہ گئی

کہیں بے کنار تھیں خواہشیں ، کہیں بے شمار تھیں الجھنیںکہیں آنسوؤں کا ہجوم تھا ، مری بات بیچ میں رہ گئی

تھا جو شور میری صداؤں کا ، مری نیم شب کی دعاؤں کاہوا ملتفت جو مرا خدا ، مری بات بیچ میں رہ گئی

مری زندگی میں جو لوگ تھے ، مرے آس پاس سے اٹھ گئےمیں تو رہ گیا انہیں روکتا ، مری بات بیچ میں رہ گئی

تری بے رخی کے حصار میں ، غم زندگی کے فشار میںمرا سارا وقت نکل گیا ، مری بات بیچ میں رہ گئی

مجھے وہم تھا ترے سامنے ، نہیں کھل سکے گی زباں مریسو حقیقتا بھی وہی ہوا ، مری بات بیچ میں رہ گئی

— امجد اسلام امجد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں