15 اشعار

ہَوا بُرد

Hawa Burd

ہَوا بُرد

«ہَوا بُرد» امجد اسلام امجد کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ان سے میرے نصیب کا چکر بنا دیا افقر موہانی» میں 20 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

مِرے ہم سَفرمِرے جسم و جاں کے ہر ایک رشتے سے معتبر، مرے ہم سَفر

تجھے یاد ہیں! تجھے یاد ہیں!وہ جو قربتوں کے سُرور میں

تری آرزو کے حصار میںمِری خواہشوں کے وفور میں

کئی ذائقے تھے گُھلے ہُوئےدرِ گلستاں سے بہار تک

وہ جو راستے تھے، کُھلے ہُوئے!سرِ لوحِ جاں،

کسی اجنبی سی زبان کےوہ جو خُوشنما سے حروف تھے!

وہ جو سرخوشی کا غبار سا تھا چہار سُوجہاں ایک دُوجے کے رُوبرو

ہمیں اپنی رُوحوں میں پھیلتی کسی نغمگی کی خبر ملیکِسی روشنی کی نظر ملی،

ہمیں روشنی کی نظر ملی تو جو ریزہ ریزہ سے عکس تھےوہ بہم ہُوئے

وہ بہم ہُوئے تو پتہ چلاکہ جو آگ سی ہے شرر فشاں مِری خاک میں

اُسی آگ کاکوئی اَن بُجھا سا نشان ہے، تری خاک میں!

اسی خاکداں میں وہ خواب ہےجسے شکل دینے کے واسطے

یہ جو شش جہات کا کھیل ہے یہ رواں ہُوااسی روشنی سے ’’مکاں‘‘ بنا‘ اسی روشنی سے ’’زماں‘‘ ہُوا

یہ جو ہر گُماں کا یقین ہے!وہ جو ہر یقیں کا گمان تھا!

اسی داستاں کا بیان تھا!

— امجد اسلام امجد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں