غزل 8 اشعار

حسینوں کے ستم کو مہربانی کون کہتا ہے

Haseenon ke sitam ko meherbani kaun kehta hai

حسینوں کے ستم کو مہربانی کون کہتا ہےعداوت کو محبت کی نشانی کون کہتا ہے

یہ ہے اک واقعی تفصیل میری آپ بیتی کیبیان درد دل کو اک کہانی کون کہتا ہے

یہاں ہر دم نئے جلوے یہاں ہر دم نئے منظریہ دنیا ہے نئی اس کو پرانی کون کہتا ہے

تجھے جس کا نشہ ہر دم لیے پھرتا ہے جنت میںبتا اے شیخ اس کوثر کو پانی کون کہتا ہے

طریقہ یہ بھی ہے اک امتحان جذبۂ دل کاتمہاری بے رخی کو بد گمانی کون کہتا ہے

بلا ہے قہر ہے آفت ہے فتنہ ہے قیامت کاحسینوں کی جوانی کو جوانی کون کہتا ہے

فنا ہو کر بھی حاصل ہے وہی رنگ بقا اس کاہماری ہستیِ فانی کو فانی کون کہتا ہے

ہزاروں رنج اس میں عرشؔ لاکھوں کلفتیں اس میںمحبت کو سرود زندگانی کون کہتا ہے

— عرش ملسیانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں