نظم 15 اشعار

ظفر

Zafar

صبح فرغانہ میں تھی اور ہوئی رنگوں میں شامآل تیمور کی آشفتہ سری تجھ کو سلام

لمعۂ آخر خورشید سراج الدین تھامقطع درد فزا غزل رنگیں تھا

وہ شہ نیک نفس نیک نسب نیک نژادوہ شہ نیک نظر نیک نشاں نیک نہاد

پیکر‌ خلق و وفا خوگر اعمال حسنخسرو فکر رسا بادشہ فہم و فطن

صاحب طرز نوی مالک انداز کہنفخر دیں فخر زمیں فخر زماں فخر زمن

لال قلعے کا وہ صوفی وہ محبت کا امیںجس کی مٹی سے بھی محروم ہے دلی کی زمیں

مرتبہ دان ادیبان و حکیمان وطنقدر دان شعر اے ہمہ دان و ہمہ فن

غالبؔ و ذوقؔ کے افکار کا وہ قدر شناسجس کو تھا مومنؔ و آزردہؔ کی عظمت کا پاس

ارض دلی نے بغاوت کا جب اعلان کیاسرخ رو ہو گیا اولاد کو قربان کیا

جب بدیسی کی حکومت سے زمیں تنگ ہوئیاسی قاعد کی قیادت میں بڑی جنگ ہوئی

جس کا دربار تھا اک مجمع عالی نفساںجس جگہ کوثر و تسنیم سے دھلتی تھی زباں

ساز ہندی کی نوا نغمۂ اردو کی صداجس کے اشعار سے آتی ہے اخوت کی ندا

مرد درویش شرافت کا گنہ گار بھی تھاپارسا رند بھی تھا شاعر دیندار بھی تھا

جس کو کہتے ہیں زمینوں کا شہ‌ عرش نشاںمشکل اصناف سخن جس کے لئے تھے آساں

نہ ہو اگرچہ ظفر مند و ظفر یاب مگرفلک شعر پہ تابندہ ہے از نام ظفر

— عرش ملسیانی