غزل 8 اشعار

مائل ضبط بھی آمادۂ فریاد بھی ہے

Maail-e zabt bhi amada-e faryad bhi hai

مائل ضبط بھی آمادۂ فریاد بھی ہےدل گرفتار محبت بھی ہے آزاد بھی ہے

داستان دل مایوس نہ پوچھ اے ہمدمیہ وہ بستی ہے جو آباد بھی برباد بھی ہے

اے مرے ضبط کو کامل نہ سمجھنے والےقابل داد مری کوشش فریاد بھی ہے

اڑ کے جاؤں بھی تو کیا اور نہ جاؤں بھی تو کیامنتظر برق بھی ہے تاک میں صیاد بھی ہے

کیا لکھوں کیا نہ لکھوں سرخی افسانۂ دلغم بھی ہے درد بھی حسرت بھی ہے فریاد بھی ہے

دل دیوانہ کی تو ہستیٔ ہشیار نہ پوچھیہ گرفتار قفس طائر آزاد بھی ہے

میری تسکین تو کر بھول کے اتنا تو بتایاد رکھنے کا جو وعدہ تھا تجھے یاد بھی ہے

اک روشؔ دل کی ہو اے عرشؔ تو کچھ بات بھی ہوکیا مصیبت ہے کہ یہ شاد بھی ناشاد بھی ہے

— عرش ملسیانی