غزل 9 اشعار

ہوا چمن کی بھلا ہم کو سازگار کہاں

Hawa chaman ki bhala hum ko sazgaar kahan

ہوا چمن کی بھلا ہم کو سازگار کہاںبہار نام کو ہے اصل میں بہار کہاں

جو تم نہیں تھے تو اک لطف انتظار تو تھاتم آ گئے ہو تو اب لطف انتظار کہاں

چمن سے دور بھی دیکھی ہے فصل گل ہم نےمگر وہ سلسلۂ نغمۂ بہار کہاں

نمود صبح ہوئی اور اجڑ گئی محفلمے شبانہ کہاں اب وہ میگسار کہاں

چمن یہ شہر نگاراں بنا تو ہے لیکنمری بہار کو چھوڑ آئی ہے بہار کہاں

ہوئی ہیں ان سے اچٹتی سی کچھ ملاقاتیںمگر یہ کیف بہ اندازۂ خمار کہاں

نہ سینہ چاک ہے کوئی نہ اب گریباں چاکگیا نہ جانے وہ سرمایۂ بہار کہاں

بہ‌ فیض عظمت عصیاں ملی ہے یہ توقیروگرنہ در خور رحمت گناہ گار کہاں

نہ وہ صحبت ماضی نہ اس کی یاد اے عرشؔجو کارواں ہی نہیں ہے تو پھر غبار کہاں

— عرش ملسیانی