نظم 6 اشعار

شملہ

Shimla

حسین جلوے بتوں کے کہاں کہاں نہ ملےیہاں ملے جو کہیں زیر آسماں نہ ملے

ہجوم شملہ میں آنکھیں ترس گئیں صاحبمجھے تلاش ہے جن کی وہ مہرباں نہ ملے

بس ایک عاجز خستہ ہے مغتنم ورنہسخن شناس سخن دوست ہم زباں نہ ملے

یہ کوہسار یہ اشجار یہ چمن یہ بہارمیں وہ پرندہ جسے شاخ آشیاں نہ ملے

سزا ملے کسی بد ذوق کو تو بات بھی ہےستم تو یہ ہے کہ شاعر کو بھی مکاں نہ ملے

بہ نام عرشؔ بلندی کا مدعی ہوں میںدرست ہے کہ زمیں پر مجھے اماں نہ ملے

— عرش ملسیانی