نظم 20 اشعار

مزدور

Mazdoor

جون کی گرمی کڑکتی دھوپ لو چلتی ہوئیہر گھڑی مزدور کے سر سے قضا ٹلتی ہوئی

سر پہ گارے کی کڑھائی اور دیوار بلندہانپتا وہ چڑھ رہا ہے لے کے ہمت کی کمند

پاڑ پر پہنچا تو اک گالی سنی معمار سےجی میں آیا سر کو ٹکرا دے اسی دیوار سے

ہائے اس مظلوم کی مجبوریاں نا چاریاںجان کا آزار ہیں افلاس کی بیماریاں

دل میں کہتا ہے کہ یہ معمار بھی مزدور ہےپھر یہی جان حزیں کیوں اس قدر مقہور ہے

اس کی اجرت مجھ سے دگنی ہے مگر کم ہے شعورتمکنت کس بات پر کس چیز پر اتنا غرور

میں اگر نادار ہوں یہ بھی نہیں سرمایہ داربھوت وہ ہے کس بڑائی کا جو اس پر ہے سوار

اینٹ گارا میں نہ دوں اس کو تو یہ کس کام کااصل میں معمار میں ہوں یہ فقط ہے نام کا

میری ہمت کہہ رہیں ہیں کاخ دیوان بلندآہ اس پر بھی میں دنیا میں ہوں اتنا مستمند

لگ گیا پھر کام میں یہ سوچ کر وہ بد نصیباے خدا دنیا میں اتنا بھی نہ ہو کوئی غریب

دن ڈھلا جس وقت مالک بھی مکاں کا آ گیااک سکوت مرگ سا دیوار و در پر چھا گیا

کانپتا رہتا ہے ہر مزدور جس کے نام سےسب اسی دھن میں تھے وہ خوش ہو ہمارے کام سے

اس کی پیشانی پہ لیکن بل ذرا آنے لگےپھن اٹھا کر تمکنت کے سانپ لہرانے لگے

سب سے پہلے اس نے گالی دی اسی معمار کواپنی ملکیت جو سمجھا تھا ہر اک دیوار کو

جوش نخوت سے کہا اس نے کہ اے پاجی لعیںکل جہاں تک تھی گئی دیوار اب بھی ہے وہیں

کیا کیا ہے تو نے دن بھر میں ذرا مجھ کو بتایوں تکبر میں وہ آ کر جائزہ لینے لگا

دل میں وہ مزدور پھر کہنے لگا اف رے غضبجو بھی اس دنیا میں ہیں فرعون ہیں وہ سب کے سب

جس کا جس پر بس چلے پامال کرتا ہے اسےخود اگر خوش حال ہے بد حال کرتا ہے اسے

کیا کہوں سرمایہ داروں کے ستم کی داستاںدیدۂ مزدور ہے مزدور سے بھی خونفشاں

جس کی لاٹھی اس کی بھینس اس مثل کو صادق سمجھیہ سمجھ کر اس خدائے پاک کو رازق سمجھ

— عرش ملسیانی