غزل 6 اشعار

طرب کے مخمصے غم کے جھمیلے

Tarab ke makhmase gham ke jhamele

طرب کے مخمصے غم کے جھمیلےدل ناداں نے لاکھوں کھیل کھیلے

گئے اک ایک کر کے ہم سفر سبہمیں زندہ ہیں مرنے کو اکیلے

غم دوراں سے اتنی بار ہارےغم جاناں سے جتنی بار کھیلے

دل آخر تاب لاتا بھی تو کب تکقیامت تھے تمناؤں کے ریلے

یہ دنیا ختم ہو جائے گی آخرنہ ہوں گے ختم دنیا کے جھمیلے

نہ کوئی ہم خیال اے عرشؔ پایارہے ہم انجمن میں بھی اکیلے

— عرش ملسیانی