غزل 10 اشعار

دل کا آزار کم نہیں ہوتا

Dil ka azar kam nahin hota

دل کا آزار کم نہیں ہوتاشوق دیدار کم نہیں ہوتا

بڑھ رہی ہے بہت مسیحائیدرد بیمار کم نہیں ہوتا

صلح سازان بزم عالم کاجوش پیکار کم نہیں ہوتا

دیکھ کر تم کو اور کو دیکھیںاب تو معیار کم نہیں ہوتا

ان کے انکار روح فرسا سےان کا اقرار کم نہیں ہوتا

اے فلک اور کوئی تازہ ستمکرم یار کم نہیں ہوتا

ظاہری حق پرستیوں سے کبھیکفر دیں دار کم نہیں ہوتا

دور مے میں کمی تو آتی ہےشوق میخوار کم نہیں ہوتا

مے سے رغبت ہے شیخ کو ہر چندمے سے انکار کم نہیں ہوتا

عرشؔ داد سخن نہ ملنے سےلطف اشعار کم نہیں ہوتا

— عرش ملسیانی