غزل 7 اشعار

یہ دور خرد ہے دور جنوں اس دور میں جینا مشکل ہے

Yeh daur-e-khirad hai daur-e-junoon is daur mein jeena mushkil hai

یہ دور خرد ہے دور جنوں اس دور میں جینا مشکل ہےانگور کی مے کے دھوکے میں زہراب کا پینا مشکل ہے

جب ناخن وحشت چلتے تھے روکے سے کسی کے رک نہ سکےاب چاک دل انسانیت سیتے ہیں تو سینا مشکل ہے

اک صبر کے گھونٹ سے مٹ جاتی تب تشنہ لبوں کی تشنہ لبیکم ظرفیٔ دنیا کے صدقے یہ گھونٹ بھی پینا مشکل ہے

وہ شعلہ نہیں جو بجھ جائے آندھی کے ایک ہی جھونکے سےبجھنے کا سلیقہ آساں ہے جلنے کا قرینہ مشکل ہے

کرنے کو رفو کر ہی لیں گے دنیا والے سب زخم اپنےجو زخم دل انساں پہ لگا اس زخم کا سینہ مشکل ہے

وہ مرد نہیں جو ڈر جائے ماحول کے خونی منظر سےاس حال میں جینا لازم ہے جس حال میں جینا مشکل ہے

ملنے کو ملے گا بالآخر اے عرشؔ سکون ساحل بھیطوفان حوادث سے لیکن بچ جائے سفینہ مشکل ہے

— عرش ملسیانی