دل جنس محبت کا خریدار نہیں ہے
دل جنس محبت کا خریدار نہیں ہےپہلی سی وہ اب صورت بازار نہیں ہے
ہر بار وہی سوچ وہی زہر کا ساغراس پر یہ ستم جرأت انکار نہیں ہے
ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی
مہمان شاعر: باقی صدیقی
دل جنس محبت کا خریدار نہیں ہےپہلی سی وہ اب صورت بازار نہیں ہے
ہر بار وہی سوچ وہی زہر کا ساغراس پر یہ ستم جرأت انکار نہیں ہے
تارے درد کے جھونکے بن کر آتے ہیںہم بھی نیند کی صورت اڑتے جاتے ہیں
جب انداز بہاروں کے یاد آتے ہیںہم کاغذ پر کیا کیا پھول بناتے ہیں
ڈر کے حالات سے دامن کو بچانے والےہم ترے واسطے مقتل میں تھے جانے والے
خندہ گل کی حقیقت یہ کبھی ایک نظراے بہاروں کی طرح راہ میں آنے والے
کوئی خواب دشتِ فراق میں سر ِشام چہرہ کشا ہوامری چشم تر میں رکا نہیں کہ تھا رتجگوں کا ڈسا ہوا
مرے دل کو رکھتا ہے شادماں، مرے ہونٹ رکھتا ہے گل فشاںوہی ایک لفظ جو آپ نے، مرے کان میں ہے کہا ہوا
اے برگِ دل چشمِ نم سے دُھل کر شجر نکھرتے تو سبز ہوتےنمیدہ پلکوں سے تیری یادوں کے پَل سنورتے تو سبز ہوتے
خزاں تو موقع پرست ٹھہری سو خُشک پتے بچھا رہی ہےبہار جیسے وہ یار رستوں پہ پاؤں دھرتے تو سبز ہوتے