21 اشعار

تم یاد مجھے آ جاتے ہو

Tum yaad mujhe aa jaate ho

تم یاد مجھے آ جاتے ہو

«تم یاد مجھے آ جاتے ہو» بہزاد لکھنوی کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «یہ کفر بڑھتے بڑھتے ایمان ہو نہ جائے بہزاد لکھنوی» میں 18 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 29 سیکنڈ ہے۔

تم یاد مجھے آ جاتے ہوجب صحن چمن میں کلیاں کھل کر پھول کی صورت ہوتی ہیں

اور اپنی مہک سے ہر دل میں اک تخم لطافت بوتی ہیںتم یاد مجھے آ جاتے ہو

تم یاد مجھے آ جاتے ہوجب برکھا کی رت آتی ہے جب کالی گھٹائیں اٹھتی ہیں

جس وقت کہ رندوں کے دل سے ہو حق کی صدائیں اٹھتی ہیںتم یاد مجھے آ جاتے ہو

تم یاد مجھے آ جاتے ہوجب مینہ کی پھواریں پڑتی ہیں جب ٹھنڈی ہوائیں آتی ہیں

جب صحن چمن سے گھبرا کر پی پی کی صدائیں آتی ہیںتم یاد مجھے آ جاتے ہو

تم یاد مجھے آ جاتے ہوجب چودھویں شب کا چاند نکل کر دہر منور کرتا ہے

جب کوئی محبت کا مارا کچھ ٹھنڈی سانسیں بھرتا ہےتم یاد مجھے آ جاتے ہو

تم یاد مجھے آ جاتے ہوجب رات کی ظلمت گھٹتی ہے جب صبح کا نور ابھرتا ہے

جب کوئل کوکو کرتی ہے جب پنچھی پی پی کرتا ہےتم یاد مجھے آ جاتے ہو

تم یاد مجھے آ جاتے ہوجب کوئی کسی کا ہاتھ پکڑ کر سیر کو باہر جاتا ہے

جب کوئی نگاہ شوق کے آگے رہ رہ کر گھبراتا ہےتم یاد مجھے آ جاتے ہو

تم یاد مجھے آ جاتے ہوجب چار نگاہیں کر کے کوئی محو تبسم ہوتا ہے

جب کوئی محبت کا مارا اس کیف میں پڑ کر کھوتا ہےتم یاد مجھے آ جاتے ہو

تم یاد مجھے آ جاتے ہوافلاک پہ جب یہ لاکھوں تارے جگ مگ جگ مگ کرتی ہیں

جب تارے گن گن کر دل والے ٹھنڈی سانسیں بھرتے ہیںتم یاد مجھے آ جاتے ہو

تم یاد مجھے آ جاتے ہوجب رات کا بڑھتا ہے سناٹا چین سے دنیا سوتی ہے

تب آنکھ مری کھل جاتی ہے اور دل کی رگ رگ روتی ہےتم یاد مجھے آ جاتے ہو

تم یاد مجھے آ جاتے ہوجب روتا ہے بہزاد حزیںؔ وہ شاعر وہ دیوانہ سا

وہ دل والا وہ سودائی وہ دنیا سے بیگانہ ساتم یاد مجھے آ جاتے ہو

تم یاد مجھے آ جاتے ہو

— بہزاد لکھنوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں