9 اشعار

غم میں بھی مسکرا رہا ہوں میں

Gham mein bhi muskura raha hoon main

غم میں بھی مسکرا رہا ہوں میںاپنا عالم دکھا رہا ہوں میں

ہچکیو جب کوئی نہیں میراپھر کسے یاد آ رہا ہوں میں

اس سے مجھ کو نہیں وفا کی امیدجس کو اپنا بنا رہا ہوں میں

رکھ رہا ہوں بنا نشیمن کیبجلیوں کو بلا رہا ہوں میں

اشک غم ساتھ کیوں نہیں دیتےدیر سے مسکرا رہا ہوں میں

اللہ اللہ میری مستئ شوقبے پیے ڈگمگا رہا ہوں میں

اشک بہتے ہیں کچھ نہیں کہتایوں فسانہ سنا رہا ہوں میں

ہو جلائیں تھیں شام فرقت میںوہی شمعیں بجھا رہا ہوں میں

یاد آتا ہی جاتا ہے بہزادؔوہی جس کو بھلا رہا ہوں میں

— بہزاد لکھنوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں