شاعر

محسن بھوپالی

Mohsin Bhopali

36
منتخب کلام
36
آواز میں کلام
1
محفلیں
کلام پڑھیں

تعارف

محسن بھوپالی اردو ادب کے اُن معتبر اور ہمہ جہت شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے کلاسیکی روایت کو عصری حسّاسیت کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔ ان کا اصل نام عبدالرّحمٰن تھا اور وہ 29 ستمبر 1932ء کو سہاگپور (قریب بھوپال) میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد انہوں نے ہجرت کر کے پاکستان میں سکونت اختیار کی اور بالآخر کراچی کو اپنا مستقل مسکن بنایا۔ پیشے کے اعتبار سے وہ سول انجینئر تھے اور سندھ حکومت کے محکمۂ تعمیرات سے طویل عرصے تک وابستہ رہے، تاہم شاعری ان کی اصل شناخت اور تخلیقی اظہار کا بنیادی وسیلہ بنی۔ انہوں نے باقاعدہ شاعری کا آغاز کم عمری میں کیا اور جلد ہی غزل کے میدان میں اپنی ایک الگ پہچان قائم کر لی۔محسن بھوپالی کی شاعری فکری گہرائی، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کی آئینہ دار ہے۔ انہوں نے غزل کے ساتھ ساتھ نظم میں بھی نمایاں کام کیا اور اردو ادب کو “نظمانے” جیسی نئی صنف سے روشناس کرایا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جاپانی صنفِ سخن ہائیکو کو اردو میں متعارف کرانے اور فروغ دینے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ان کے شعری مجموعات میں انسانی احساسات، سماجی ناہمواریوں، ہجرت کے کرب، وقت کی بے ثباتی اور شہری زندگی کے مسائل بھرپور انداز میں منعکس ہوتے ہیں۔ ان کا ایک مشہور شعر “تمہیں آسائشِ منزل مبارک، ہمیں گردِ مسافت ہی بہت ہے” ان کے فکری رجحان اور داخلی کرب کی خوبصورت ترجمانی کرتا ہے۔ادبی خدمات کے ساتھ ساتھ محسن بھوپالی ایک حساس اور باخبر شہری بھی تھے، جنہوں نے اپنے دور کے سیاسی اور معاشرتی حالات پر جرات مندانہ اظہار کیا، خصوصاً کراچی کے حالات پر ان کا “شہرِ آشوب” ایک اہم دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ زندگی کے آخری برسوں میں شدید بیماری کے باوجود ان کا تخلیقی وقار اور ادبی اثر قائم رہا۔ وہ 17 جنوری 2007ء کو کراچی میں وفات پا گئے، مگر اپنی شاعری، فکری جدت اور تخلیقی تنوع کے باعث آج بھی اردو ادب میں ایک معتبر اور زندہ حوالہ سمجھے جاتے ہیں۔

منتخب اشعار

سیر دنیا سے پلٹ کر جب قدم گھر میں رکھا

پورا کلام ‹

میں محو ہو گیا تھا کچھ دیر سوچنے میں

پورا کلام ‹
  1. 01 سیر دنیا سے پلٹ کر جب قدم گھر میں رکھا Sair-e-duniya se palat kar jab qadam ghar mein rakha آواز میں دستیاب
  2. 02 میں محو ہو گیا تھا کچھ دیر سوچنے میں Main mahv ho gaya tha kuch der sochne mein آواز میں دستیاب
  3. 03 ڈوبنے والے نے جب شور مچانا چاہا Doobne wale ne jab shor machana chaha آواز میں دستیاب
  4. 04 اہتمام رسن و دار سے کیا ہوتا ہے Ahtemam rasan-o-daar se kya hota hai آواز میں دستیاب
  5. 05 جو مسکراتے ہوئے غم چھپانا جانتا ہے Jo muskuraate hue gham chhupana jaanta hai آواز میں دستیاب
  6. 06 وہ نہ میرا ہی تھا محسن نہ وہ اپنا نکلا Woh na mera hi tha Mohsin na woh apna nikla آواز میں دستیاب