9 اشعار

جلوہ بس روئے جلوہ گر تک ہے

Jalwa bas roo-e-jalwa-gar tak hai

جلوہ بس روئے جلوہ گر تک ہے

«جلوہ بس روئے جلوہ گر تک ہے» بہزاد لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

جلوہ بس روئے جلوہ گر تک ہےزندگی آمد سحر تک ہے

سجدۂ شوق میرے سر تک ہےسر مرا ان کے سنگ در تک ہے

تیری دنیا ہے میری ہستی تکمیری دنیا تری نظر تک ہے

اے مری آہ لوٹ کیوں آئیجب رسائی در اثر تک ہے

اے دل بے خبر تری منزلکیا کہوں ایک باخبر تک ہے

ہائے صیاد جرأت پروازتو سمجھتا ہے بال و پر تک ہے

اب جو ہوتے نہیں سجود نیازدیکھ مغموم سنگ در تک ہے

صرف آنکھیں نہیں ہیں مضطر دیدیہ خلش تو دل و جگر تک ہے

شوق سے ہاں الٹیے آپ نقابجلوہ بہزادؔ کی نظر تک ہے

— بہزاد لکھنوی