39 اشعار

وہ کہتی ہے، ستارے آنسوؤں میں کیوں چمکتے ہیں؟

Woh Kehti Hai, Sitaare Aansuon Mein Kyun Chamakte Hain?

وہ کہتی ہے، ستارے آنسوؤں میں کیوں چمکتے ہیں؟

«وہ کہتی ہے، ستارے آنسوؤں میں کیوں چمکتے ہیں؟» فرحت عباس شاہ کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کتنے چُپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد (فرحت عباس شاہ صاحب کے ساتھ)» میں 9 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 6 منٹ 32 سیکنڈ ہے۔

وہ کہتی ہے، ستارے آنسوؤں میں کیوں چمکتے ہیں؟میں کہتا ہوں، محبت روشنی میں رنگ بھرتی ہے

وہ کہتی ہے، ہوا کے ہاتھ میں کیا کیا نہیں آتا؟میں کہتا ہوں، جو دہلیزوں کے اندر دفن ہوتا ہے

وہ کہتی ہے، زمانے کو دلوں سے رنج کیوں کر ہے؟میں کہتا ہوں، کہ یہ آزار تو صدیوں کی قسمت ہے

وہ کہتی ہے، تمہارے بعد کیوں بارش نہیں ہوتیمیں کہتا ہوں، مری جاں ہجر صحراؤں میں رہتا ہے

وہ کہتی ہے، کہ خوشیوں میں بھی تم تو رونے لگتے ہومیں کہتا ہوں، مری آنکھوں کو ساون اچھا لگتا ہے

وہ بولی، تم بھی فرحت زندگی سے روٹھ جاؤ گےمیں بولا، ہاں، یا شاید موت مجھ سے مان جائے گی

وہ بولی، تم خوشی کے گیت کو مایوس کرتے ہومیں بولا، کیا کروں ان مختصر گیتوں کے موسم کا

وہ بولی، تم تو فرحت خود ہی خود سے ہار جاتے ہومیں بولا، کیا کروں کمزور ہوں اور بے سہارا ہوں

وہ بولی، کیا یہ سب کچھ اتفاقاً ہے تمہارا غممیں بولا، یہ بھی ممکن ہے یہ سب کچھ احتراماً ہو

محبت میں غموں کی اس قدر یلغار کیوں،۔۔۔بولی!میں بولا، تم کسی دن یہ تو اپنے آپ سے پوچھو

وہ کہتی ہے، سُنو فرحت! تمہارا خواب کیوں ٹوٹا؟میں کہتا ہوں، سرابی! دل میں کوئی کھینچ پڑتی تھی

تمہاری شاعری میں زندگی کی سسکیاں کیوں ہیں؟میں بولا، آنسوؤں کی ابتدائی شکل جو ٹھہری

وہ کہتی ہے، کہ فرحت شاہ! میں کچھ مضطرب سی ہوںمیں کہتا ہوں، سرابی! تم بھی میری روح جیسی ہو

وہ کہتی ہے، تمہیں کیوں خوف آتا ہے ہواؤں سےمیں کہتا ہوں، سرابی! دیپ تو ایسے ہی ہوتے ہیں

وہ کہتی ہے، چلو فرحت!ہوا کے ساتھ چلتے ہیںمیں خاموشی سے اُس کے ساتھ چل دیتا ہوں بجھنے کو

وہ مجھ سے پوچھتی ہے، تم کہاں غائب ہو صدیوں سےمیں کہتا ہوں، ہزاروں وسوسوں کے درمیاں گم ہوں

وہ مجھ سے پوچھتی ہے، رات کی بے چینیاں کیا ہیں؟میں کہتا ہوں، وہی جو دوریوں کے دل میں ہوتی ہیں

وہ مجھ سے پوچھتی ہے، خوف کا دورانیہ کیا ہے؟میں کہتا ہوں، جو دل اور غم کا ہوتا ہے مصیبت میں

وہ مجھ سے پوچھتی ہے، بادلوں کی عمر کتنی ہے؟میں کہتا ہوں، تمازت کے مطابق پانیوں کے وقت جتنی ہے

وہ مجھ سے پوچھتی ہے، رات اتنی بے زباں کیوں ہے؟میں کہتا ہوں، زباں تو درد کی شدت کی ہوتی ہے

وہ کہتی ہے، یہ خاموشی بھی کچھ تو سوچتی ہو گیمیں کہتا ہوں، وہی جو گفتگو کی بھیڑ میں کھو جائے

وہ کہتی ہے کہ فرحت، کچھ دنوں سے بولتے کم ہومیں کہتا ہوں، کئی دُکھ بولنے سے روک دیتے ہیں

وہ کہتی ہے، مجھے یہ سوچ کر بتلا میں کیسی ہوںمیں کہتا ہوں سرابی! سوچنے میں وقت لگتا ہے

وہ کہتی ہے، ہجومِ بد روِش سے خوف آتا ہےمیں کہتا ہوں، مجھے اُجڑی ہوئی گلیاں ڈراتی ہیں

وہ کہتی ہے مجھے بے حس زمانے سے شکایت ہےمیں کہتا ہوں کہ یہ شکوہ شکایت رائیگاں ہے سب

وہ بولی ، تم کہاں غائب ہوئے رہتے ہو راتوں کومیں بولا، میں تو بس آوارہ پھرتا ہوں اداسی میں

وہ بولی، فون بھی اکثر بہت انگیج رکھتے ہومیں بولا، بے سروپا گھنٹیوں سے خوف آتا ہے

وہ بولی، تم بہت کنجوس ہو خط بھی نہیں لکھتےمیں بولا، خط لکھوں تو شاعری ناراض ہوتی ہے

وہ بولی، تم کبھی ملنے چلے آؤ جو ممکن ہومیں بولا، یہ تو تم نے میرے دل کی بات ہی کہہ دی

وہ بولی، آج موسم میں عجب سی خوشگواری ہےمیں بولا، ہاں یہ موسم پیار سے ملنے کا موسم ہے

وہ کہتی ہے کہ اب آوارگی سے کچھ نہیں حاصلمجھے حیرت ہے یہ سب کچھ وہ مجھ بادل سے کہتی ہے

وہ کہتی ہے کہ فرحت! بے ضرر رہنا نہیں اچھامیں کہتا ہوں، کئی اچھائیاں بس میں نہیں ہوتیں

وہ کہتی ہے مری یادوں سے کیونکر دور رہتے ہومیں کہتا ہوں، تری پرچھائیاں بس میں نہیں ہوتیں

وہ کہتی ہے، تمہاری کچھ دعا بھی تو کوئی ہو گیمیں کہتا ہوں، جہاں تم ہو، یہ راتیں بھی وہیں ہوتیں

عجب سے معنویت سی پلٹ آتی نظاروں میںتمہیں ہم دیکھتے بھی اور باتیں بھی وہیں ہوتیں

ستارے دیکھنے آتے مجھے تیری محبت میںوہ کہتی ہے، ستارے اور سپنے جھوٹ ہوتے ہیں

وہ کہتی ہے کہ اب روؤں تو آنسو چبھنے لگتے ہیںمیں کہتا ہوں، کسی شاعر سے آنکھیں مانگ سکتی ہو

وہ مجھ سے پوچھتی ہے، مضطرب سے لگ رہے ہوکچھمیں کہتا ہوں کہ دل میں عشق کا مہمان دیکھا ہے

وہ مجھ سے پوچھتی ہے، کیا پریشانی ہے فرحت جیمیں کہتا ہوں ، کہ سارے شہر کو ویران دیکھا ہے

— فرحت عباس شاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں