7 اشعار

موت کا وقت گزر جائے گا

Maut Ka Waqt Guzar Jaye Ga

موت کا وقت گزر جائے گا

«موت کا وقت گزر جائے گا» فرحت عباس شاہ کا کلام ہے، جسے انتظار حسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کتنے چُپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد (فرحت عباس شاہ صاحب کے ساتھ)» میں 9 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 4 منٹ 18 سیکنڈ ہے۔

موت کا وقت گزر جائے گایہ بھی سیلاب اتر جائے گا

آ گیا ہے جو کسی سکھ کا خیالمجھ کو چھوئے گا تو مر جائے گا

کیا خبر تھی مرا خاموش مکاںاپنی آواز سے ڈر جائے گا

آ گیا ہے جو دکھوں کا موسمکچھ نہ کچھ تو کہیں دھر جائے گا

جھوٹ بولے گا تو کیا ہے اس میںکوئی وعدا بھی تو کر جائے گا

اس کے بارے میں بہت سوچتا ہوںمجھ سے بچھڑا تو کدھر جائے گا

چل نکلنے سے بہت ڈرتا ہوںکون پھر لوٹ کے گھر جائے گا

— فرحت عباس شاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں