48 اشعار

سائیاں

Saiyaan

سائیاں

«سائیاں» فرحت عباس شاہ کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کتنے چُپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد (فرحت عباس شاہ صاحب کے ساتھ)» میں 9 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 3 منٹ 33 سیکنڈ ہے۔

سائیاں میرے اچھے سائیاںسائیاں ذات ادھوری ہے

سائیاں بات ادھوری ہےسائیاں رات ادھوری ہے

سائیاں مات ادھوری ہےدشمن چوکنا ہے لیکن

سائیاں گھات ادھوری ہےسائیاں تیرے گاؤں میں

دکھ کی سیاہ فضاؤں میںنا مانوس ہواؤں میں

لوگوں اور بلاؤں میںقید ہوئے ہیں مدت سے

ہم بے کار دعاؤں میںسائیاں رنج ملال بہت

دیوانے بے حال بہتقدم قدم پر جال بہت

پیار محبت کال بہتاور اسی عالم میں سائیاں

گزر گئے ہیں سال بہتسائیاں ہر سو درد بہت

موسم موسم سرد بہترستہ رستہ گرد بہت

چہرہ چہرہ زرد بہتاور ستم ڈھانے کی خاطر

تیرا اک اک فرد بہتسائیاں تیرے شہر بہت

گلی گلی میں زہر بہتخوف زدہ ہے دہر بہت

اس پر تیرا قہر بہتکالی راتیں اتنی کیوں

ہم کو ایک ہی پہر بہتسائیاں دل مجبور بہت

روح بھی چور و چور بہتپیشانی بے نور بہت

اور لمحے مغرور بہتایسے مشکل عالم میں

تو بھی ہم سے دور بہتسائیاں راہیں تنگ بہت

دل کم ہیں اور سنگ بہتپھر بھی تیرے رنگ بہت

خلقت ساری دنگ بہتسائیاں تم کو آتے ہیں

بہلانے کے ڈھنگ بہتسائیاں میرے تارے گم

رات کے چند سہارے گمسارے جان سے پیارے گم

آنکھیں گم نظارے گمریت میں آنسو ڈوب گئے

راکھ میں ہوئے شرارے گمسائیاں میری راتیں گم

ساون اور برساتیں گملب گم گشتہ باتیں گم

بینائی گم جھاتیں گمجیون کے اس صحرا میں

سب جیتیں سب ماتیں گمسائیاں جان بیمار ہوئی

صدموں سے دو چار ہوئیہر شے سے بیزار ہوئی

پریتم دل آزار ہوئیہر اک سپنا سنگ ہوا

ہر خواہش دیوار ہوئیسائیاں رشتے ٹوٹ گئے

سائیاں اپنے چھوٹ گئےسچ گئے اور جھوٹ گئے

تیز مقدر پھوٹ گئےجانے کیسے ڈاکو تھےجو

لٹے ہوئوں کو لوٹ گئےسائیاں خواب اداس ہوئے

سرخ گلاب اداس ہوئےدل بے تاب اداس ہوئے

دور سحاب اداس ہوئےجب سے صحرا چھوڑ دیا

ریت سراب اداس ہوئےسائیاں تنہا شاموں میں

چنے گئے ہیں باموں میںچاہت کے الزاموں میں

شامل ہوئے ہے غلاموں میںاپنی ذات نہ ذاتوں میں

اپنا نام نہ ناموں میںسائیاں ویرانی کے صدقے

اپنی یزدانی کے صدقےجبر انسانی کے صدقے

لمبی زندانی کے صدقےسائیاں میرے اچھے سائیاں

اپنی رحمانی کے صدقےسائیاں میرے درد گھٹا

سائیاں میرے زخم بجھاسائیاں میرے عیب مٹا

سائیاں کوئی نوید سنااتنے کالے موسم میں

سائیاں اپنا آپ دکھاسائیاں میرے اچھے سائیاں

سائیاں میرے دولے سائیاںسائیاں میرے پیارے سائیاں

سائیاں میرے بیبے سائیاں

— فرحت عباس شاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں