14 اشعار

دلِ سوختہ

Dil-e-Sukhta

دلِ سوختہ

«دلِ سوختہ» فرحت عباس شاہ کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کتنے چُپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد (فرحت عباس شاہ صاحب کے ساتھ)» میں 9 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

دلِ سوختہکبھی بول بھی

جو اسیر کہتے تھے خود کو تیری اداؤں کے وہ کہاں گئےجو سفیر تھے تیر ی چاہتوں کی فضاؤں کے وہ کہاں گئے

وہ جو مُبتلائے سفر تھے تیرے خیال میںوہ جو دعویدار تھے عمر بھر کی وفاؤں کے وہ کہاں گئے

کبھی کوئی راز تو کھول بھیکبھی بول بھی

دلِ نا خداکبھی بول بھی

جو تیرے سفینۂ دار و غم کے سوار تھےجو تیرے وظیفۂ چشمِ نم پہ نثار تھے

وہ جو ساحلوں پہ اُ تر گئے تو پھر اُس کے بعد پلٹ کے آئے کبھی نہیںتیری لہر لہر پہ جن کے نقش و نگار تھے

کسی دن ترازوئے وقت پراُنہیں تول بھی

کبھی بول بھیوہ جو تیرے نغمۂ زیرو بم کے امین تھے

جو تیرے طفیل بلندیوں کے مکین تھےو ہ جو معترف تھے تیری نگاہِ نیاز کے

تمھیں جن پہ سو سو یقین تھےوہ چکا گئے تیرا مول بھی

کبھی بول بھیکبھی بول بھی،

دلِ سوختہ!دلِ نا خدا!

دلِ بے نوا!کبھی بول بھی _

— فرحت عباس شاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں