12 اشعار

پیش از دن بھی پس شب بھی نظر آتا ہے

Pesh Az Din Bhi, Pas Shab Bhi Nazar Aata Hai

پیش از دن بھی پس شب بھی نظر آتا ہے

«پیش از دن بھی پس شب بھی نظر آتا ہے» فرحت عباس شاہ کا کلام ہے، جسے فرحت شاہ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کتنے چُپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد (فرحت عباس شاہ صاحب کے ساتھ)» میں 9 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 36 سیکنڈ ہے۔

پیش از دن بھی ، پس شب بھی نظر آتا ہےتجھ کو جب دیکھتا ہوں رب بھی نظر آتا ھے

بعد آنکھوں کے مرا دل بھی نکالا اس نےاس کو شک تھا کہ مجھے اب بھی نظر آتا ھے

اتنے معمول سے اس شہر میں ڈر آتا ھےجسطرح صبح کا بھولا ھوا گھر آتا ھے

جب تری یاد مری ذات کا در کھولتی ھےچاند مرجھا کے خیالوں میں اتر آتا ھے

وہ سمجھتا تھا، وہ سچ مچ میں سمجھتاتھا یہیمجھ کو تنہائی سے لڑنے کا ہنر آتا ھے

یہ جو آتا ھے پسینہ مری پیشانی پرمیرے دل تک تری آہوں کا اثر آتا ھے

ایسے آتی ہے مری سمت محبت تیریجس طرح سایہ کوئی خاک بہ سر آتا ہے

واے بربادی مقدر ہوا ماتم میراوہ کہیں بھی نہیں اور رخت سفر آتا ہے

اس لیے ہی تو تجھے ساتھ نہیں لایا میںہر قدم پر میرے رستے میں بھنور آتا

جب سےنکلاھےمرےدل سےتری دھوپ کا خوفمیری ہر راہ میں خود چل کے شجر آتا ھے

کاش اس کیف کی تعبیر کبھی ممکن ہولوریاں دینے مجھے موت کا ڈر آتا ھے

آنکھ بھیگی ہو ذرا سی کبھی میری تو کہودل کی چھوڑو یہ تو بس ایسے ہی بھر آتا ھے

— فرحت عباس شاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں